گزشتہ روز امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے شمشاد ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اہم موضوعات پر مختلف سوالوں کے معقول جوابات دیے۔
1۔ ہم امریکا کو افغانستان کے اندرونی معاملات پر بات کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہم اس کے ساتھ صرف انخلا کے معاملے پر بات کرسکتے ہیں۔
2۔ بین الافغان تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہییں۔ کابل انتظامیہ امریکا کے مفادات کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ وہ ہمارا مخالف فریق نہیں ہے۔
3۔ جارحیت کے حامیوں کو افغان عوام نے ہلاک کیا ہے۔ جارحیت کے حامی افغان عوام کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ جتنے بھی ہلاک ہوئے ہیں، ان کی تعداد اہم نہیں ہے۔
4۔ اسلامی اقدار کے تحت میڈیا کی آزادی، سول ادارے اور سیاسی ڈھانچے برقرار رہیں گے۔ تاہم ان میں اصلاحات کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔ اگر وہ افغانستان اور دینی اقدار کے مخالف ہیں، تو انہیں ختم کر دیا جائے گا۔
5۔ طالبان فاتح کے طور پر آنے کے قابل ہیں۔ کیوں ں کہ انہوں نے 18 سال سے ملک کی آزادی کا دفاع کیا ہے۔
مختصر یہ کہ شمشاد ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو منصفانہ زاویے اور آزاد ضمیر کی عینک سے دیکھا جائے تو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کیا جائے گا کہ امارت اسلامیہ کی بنیاد، حکمت عملی، جدوجہد اور بصیرت اسلام اور افغان تناظر میں تاریخی مقام رکھتی ہے۔ امارت اسلامیہ نے اٹھارہ برس کے دوران تنہا امریکا اور 49 قابض ملکوں کا مقابلہ کیا ہے۔ ان کے ہر قسم کے ہتھکنڈے اور حربے ناکام بنائے اور دشمن کی ظالمانہ پالیسیاں فنا کیں۔ مغرور دشمن کی ٹیکنالوجی کو قوتِ ایمانی کی بدولت شکست دے کر اسلام کا بول بالا کیا۔ اعداد و شمار کے مطابق طالبان کو کمزور کرنے کے لیے ڈیڑھ ٹریلین ڈالر خرچ کیے گئے۔ اللہ کے فضل و کرم سے طالبان کو فوجی میدان میں ایک انچ بھی پسپا نہیں کیا جا سکتا۔
تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مغرور امریکا نے کسی ملک یا تنظیم کے ساتھ اتنے طویل مذاکرات کیے ہوں، جیسا وہ طالبان کے ساتھ کر رہا ہے۔ یہ امریکا کی کسمپرسی کی نشانی ہے۔ آج امریکا مذاکرات کی میز پر آیا ہے اور طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ بلا شبہ یہ ان قربانیوں کا نتیجہ ہے، جو ہمارے مجاہدین نے خالی ہاتھوں امریکی جارحیت کے خلاف دی ہیں۔ آج انہی گراں قدر قربانیوں کی بدولت مجاہدین فاتحانہ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں ۔
لہذا ہم ذبیح اللہ مجاہد کی اس بات کا بڑے فخر کے ساتھ اعادہ کرتے ہیں کہ ‘جی ہاں! طالبان کا حق ہے کہ وہ فاتح کی حیثیت سے دوبارہ آئیں گے۔’ انہوں نے 18 برس سے امریکا اور 49 ممالک کی فوج کے تمام مظالم کا مردانہ واور مقابلہ کیا ہے۔ امریکی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ اس دھرتی پر مجاہدین نے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ اس لیے پوری دنیا ان کے سامنے جھک گئی۔ اب وہ بہت جلد فاتح بن کر کابل آئیں گے۔ ان شاء اللہ

No comments:
Post a Comment